کامیابی حاصل کرنے کےپسِ پردہ سنہرے اصول

تحریر: عاصمہ حسن
کامیابی آخر کیا ہے ؟ کامیابی کے معنی ہم سب کے لیے مختلف ہوتے ہیں ـ کچھ لوگوں کے لیے کامیابی دولت حاصل کرنا ہے تو کسی کے لیے شہرت کے مقام پر پہنچنا ہے تو کہیں کسی کے لیے اپنے خوابوں کی تعبیر ہی کامیابی کی تعریف ہے ـ کام کوئی سا بھی ہو جب ہم محنت کر کے کامیابی حاصل کرتے ہیں تو خوشی قابلِ دید ہوتی ہے ـ ہر وہ چھوٹے سے چھوٹا قدم جو ہمیں ہماری منزل کے قریب لے جائے کامیابی ہی گردانا جاتا ہے چاہے وہ قدم چھوٹا ہو یا بڑا ‘ اِس سے پھر فرق نہیں پڑتاـ
زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے مقصد یا اپنی منزل کا علم ہو ـ آخر ہم کرنا کیا چاہتے ہیں ؟ ہم حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں ؟ کیونکہ جب تک ہمیں اپنی منزل کا تعین نہیں ہو گا ‘ ہم سمت کا اندازہ نہیں لگا سکیں گے کہ آخر ہم نے محنت کس چیز کو حاصل کرنے کے لیے کرنی ہے اور کیا لائحہ عمل اپنانا ہے ـ جب مقصد کا پتہ چل جائے گا تبھی ہم باقی اور آگے کے مراحل طے کر پائیں گے ـ
مقصد کوئی بھی ہو جب ایک دفعہ تہیہ کر لیا ‘ ٹھان لیا تو پھر ڈٹ کر اس کے لیے محنت کرنا ہی واحد حل ہے ـ جدوجہد بھی ایسی کریں کہ واپسی کا راستہ نہ ہو بس آگے بڑھنا ہے اور مستقل مزاجی کے ساتھ تمام مشکلات کا سامنا کرنا ہے ـ
یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ ہمیں کامیابی رات و رات حاصل نہیں ہو جاتی اور نہ ہی ہر کوئی شخص اپنے پہلے قدم پر کامیاب ہو پاتا ہے لیکن کچھ لوگ کام شروع کرتے ہی جلد سے جلد نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں اور فوراً مایوس ہو کر بیٹھ جاتے ہیں ـ ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئیے کہ کامیابی ہمیں صرف خواب دیکھنے یا صرف سوچنے سے نہیں مل جاتی بلکہ اس تک پہنچنے کا سفر انتہائی طویل اور خاردار ہوتا ہے ـ کئی موڑ ایسے بھی آتے ہیں کہ ہم ہمت ہار جاتے ہیں ‘ ٹھوکروں سے ‘ دربدر پھرنے سے ہمت جواب دے جاتی ہے ایسے موقع پر خود کو ‘ اپنی قوت کو یکجا کرنا اور نئے جذبے اور ولولے کے ساتھ دوبارہ سے محنت کرنا ہی اصل کامیابی کی ضامن ہے ـ
جب ہم اپنی منزل کا تعین کرتے ہیں تو اس تک پہنچنے یا اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے لائحہ عمل یا روڈ میپ تیار کرتے ہیں ـ اب ضروری نہیں کہ جو اور جیسا ہم نے سوچا ہے ویسا ہی ہو گا اور ہمیں ہمیشہ مثبت اور ہماری سوچ کے مطابق ہی نتائج حاصل ہونگے ـ ہمیشہ متبادل منصوبہ ( پلان بی) تیار رکھیں کیونکہ حالات و واقعات بدل بھی سکتے ہیں ـ موافق سے نا موافق بھی ہو سکتے ہیں ـ پھر اس وقت ہاتھ پاؤں پھولنے اور پریشان ہونے سے بہتر ہے کہ ہمارے پاس دوسرا راستہ موجود ہو جس پر عمل کر کے ہم بڑے نقصان سے بچ سکیں ـ
اپنی سوچ کو ہمیشہ مثبت رکھیں اور اچھا ہی سوچیں کیونکہ اسی سوچ کی بدولت ہی ہم طوفانوں سے تن تنہا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی سے ایسے لوگوں کو نکال دیں جن کی باتیں ‘ طعنے یا جملے آپ کو تکلیف دیتے ہیں ـ وہ لوگ جو مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے ‘ان کو کوئی حق نہیں بنتا کہ آپ یا آپ کے کسی معاملے میں اپنی ٹانگ اڑائیں اور اپنی باتوں سے مزید ذہنی اذیت کا پیش خیمہ بنیں ـ کچھ لوگوں کا مقصد ہی آپ کو اصل راستے یا آپ کے مقصد سے ہٹانا ہوتا ہے تاکہ آپ کبھی بھی اپنی منزل کو حاصل نہ کر سکیں ایسے لوگ اپنی منفی سوچ اور رویے کی بدولت آپ کے ذہن میں ناکامی کا خوف بھر دیتے ہیں یا پھر آپ کے اندر اس قدر وسوسے ڈال دیتے ہیں کہ آپ اپنا پہلا قدم بھی نہیں اٹھا پاتے اور اپنے خوابوں کو صرف اس لیے حاصل نہیں کر پاتے کہ لوگ کیا کہیں گے ـ
کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنی سوچ مثبت رکھتے ہیں اور مسائل کو مواقع میں تبدیل کرنے کا گُر جانتے ہیں ـ یہی خاصیت انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے ـ مشکلات اور مسائل کا سامنا سب کو کرنا پڑتا ہے لیکن صرف سوچ ہی ہوتی ہے جو ہمیں اِس بھنور سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ـ
جب ہم کوئی کام بار بار کرتے ہیں تو اس میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں ـ اس کی مثال ایسے ہی کہ جب بچہ کچھ نیا پڑھتا ہے تو اس کے لیے حتٰی کہ پڑھنا بھی مشکل ہوتا ہے پھر وہ بار بار پڑھتا ہے اس کے معنی تلاش کرتا ہے’ تلفظ سیکھتا ہے اور یاد کرتا ہے یہ عمل وقت مانگتا ہے ـ پہلے پہل مشکل ہی نہیں ناممکن لگتا ہے لیکن جب مسلسل محنت سے یاد ہو جائے یا سمجھ آ جائے تو وہی چیز آسان لگتی ہے اگر وہ پہلے ہی مرحلے میں یہ سوچ لے کہ یہ یاد کرنا تو بہت مشکل ہے اور میرے بس کی بات نہیں تو وہ آگے کیسے بڑھ پائے گا ـ بالکل اسی طرح جب کھانا بناتے ہوئے یا بیکنگ کرتے ہوئے کوئی نئی ترکیب آزماتے ہیں تو پہلی دفعہ میں وہ ذائقہ نہیں آتا یا کچھ نہ کچھ کمی رہ جاتی ہے جسے ہم اگلی دفعہ میں ٹھیک کرتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ ہم اس خاص ڈش کے ماہر بن جاتے ہیں ـ اسی طرح گرافک ڈیزائنر ہے پہلی دفعہ میں اُسے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے لیکن جب وہ اسی ڈیزائن پر بار بار کام کرتا ہے اور مختلف زاویے سے کام کرتا ہے تو ہر نئے دن کے ساتھ اس کے کام میں نکھار آتا چلا جاتا ہے ـ کام کوئی بھی ‘ شعبہ کوئی بھی ہو محنت’ وقت’ لگن ‘ جذبہ اور پریکٹس مانگتا ہے ـ
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کام کر رہے ہوں اور وہ نہ ہو رہا ہو تو تھوڑا وقفہ لینا بھی بہت ضروری ہو جاتا ہے ـ کچھ کھا لیں ‘ باہر کا چکر لگا لیں یا کوئی اور کام کر لیں تھوڑی دیر بعد یا ایک یا دو دن بعد دوبارہ اس کام کو کریں ـ ایسا اس لیے ضروری کہ ہم اپنے دماغ کو خود کو تھوڑا آرام دے سکیں ـ اس کے کئی فائدے ہیں ایک تو یہ کہ آپ کچھ دیر بعد نئے جوش اور جذبے سے کام دوبارہ سے کرنے کے قابل ہو جائیں گے’ دوسرا یہ کہ تروتازہ ہو کر ہمارے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں بھی واضح تبدیلی آئے گی اور کارکردگی بہتر ہو گی ـ جب ناکام ہوں اور دل برداشتہ ہو جائیں تو سب سے اہم یہ ہے کہ آپ اپنے اس مقصد کے بارے میں سوچیں جس کے بارے میں سوچ کر آپ نے یہ کام شروع کیا تھا ـ ہمارے بہت سارے سوالوں کا جواب ہمارے اندر ہی چھپا ہوتا ہے جو تھوڑا سا کریدنے سے مل جاتا ہے ـ
اگر مقصد میں یا کسی کام میں ہزار کوششوں کے باوجود بھی ناکامی ہو تو کسی دوسرے سے جو اس مرحلے سے گزر چکا ہومشورہ کریں اور اُس کے تجربات سے سیکھیں ‘ کسی سے پوچھ لینے میں یا رائے لے لینے سے کوئی چھوٹا یا بڑا نہیں ہو جاتا ـ دراصل ہم اپنے اور دوسروں کے تجربات اور مشاہدات سے سیکھتے ہیں ـ کبھی کوئی آسان سی بات ہوتی ہے لیکن ہمارے ذہن میں نہیں آ رہی ہوتی لیکن جب کوئی تجربہ کار انسان بتاتا ہے تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ بات پہلے میرے ذہن میں کیوں نہیں آئی ـ جس کی یہ بھی وجہ ہو سکتی ہے کہ ہم اُس زاویے سے سوچ نہیں رہے ہوتے یا ہمارے ذہن میں اتنا کچھ چل رہا ہوتا ہے کہ اس آسان بات یا حل کی طرف دھیان نہیں جاتا ‘ یا ہم پریشان زیادہ ہو جاتے ہیں اور ہمارے سوچنے ‘ سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے ـ
اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلسل محنت کی جائے ‘ مایوس یا دل برداشتہ ہو کر اس کام کو ادھورا نہ چھوڑا جائے ـ عام سوچ یہ ہوتی ہے کہ ہم سب کامیاب تو ہونا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے ویسی محنت نہیں کرنا چاہتے جیسی کرنی چاہئیے ‘ دراصل خود کو تکلیف میں نہیں ڈالتے پھر نتائج کیسے حاصل ہو سکتے ہیں ـ
اکژیت کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ کام کمفرٹ زون میں ہی یعنی کسی تکلیف کے بغیر انجام پا جائے ‘ ان کو ہاتھ پاؤں ہلانے نہ پڑیں ‘ محنت نہ کرنی پڑے ـ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں لوگوں کی یہ ذہنیت بن گئی ہے کہ گھر میں بیٹھ کر آرام دہ ماحول میں اپنے حساب سے کام کریں اور یہ چاہتے ہیں کہ گھر سے باہر نہ نکلنا پڑے اور ڈالر کی ریل پیل ہو جائے حقیقت میں ایسا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ ہر کام کمفرٹ زون میں نہیں ہوتا ـ اگر فری لانسرز اپنے گھر میں آرام دہ ماحول میں اپنے ورکنگ آورز میں کام کرتے ہیں تب بھی ان کو محنت کرنی پڑتی ہے’ اپنی راتوں کی نیندیں حرام کرنی پڑتی ہیں ـ ڈیڈ لائن کو پورا کرنا ‘ تسلی بخش کام کرنا اپنے کلائنٹ کو اس کی مرضی کے مطابق مقررہ وقت میں معیاری کام کر کے دینا آسان نہیں ہوتا ـ ایسا ہرگز نہیں ہوتا کہ مجھے یہ آتا ہے ‘ اتنا آتا ہے ‘میں یہ کر سکتا ہوں اور یہ نہیں کر سکتا ـ ہمیں کامیابی حاصل کرنے کے لیے وہ سب سیکھنا پڑتا ہے جو ہمارے کام میں جدت لا سکے ـ
کامیاب ہونے کے لیے خود پر انوسٹمنٹ کرنی پڑتی ہے اپنی صلاحیتوں کو جانچ کر ان پر کام کرنا پڑتا ہے ـ وقت کے ساتھ ہی ہم اپنی فیلڈ میں یا اس ہنر میں مہارت حاصل کر پاتے ہیں لیکن اتنا کافی نہیں ہوتا’ وقت کے بدلتے طور طریقوں کے مطابق ہمیں خود کو بدلنا پڑتا ہے ـ نئی مہارتیں سیکھنی پڑتی ہیں تاکہ ہم مارکیٹ میں نہ صرف رہ سکیں بلکہ کامیاب بھی ہو سکیں ـ
یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ کامیابی کے لیے کوئی شارٹ کٹ یا مختصر راستہ نہیں ہوتا ـ ہمیں کامیاب ہونے کے لیے عمدہ حکمتِ عملی کے ساتھ انتھک محنت جاری رکھنا چاہئیے ـ ناکامی کا خوف دل سے بالکل نکال دیں اور ہمت کبھی نہ ہاریں ـ کامیابی انھی کو نصیب ہوتی ہے جو شکست کو تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ـ

تازہ ترین

June 16, 2024

اسلام آباد پولیس کا عید الضحیٰ کے موقع پر خصوصی ٹریفک پلان تشکیل

June 16, 2024

آصف علی زرداری صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا عید الاضحیٰ 2024 کے موقع پر قوم کے نام پیغام

June 16, 2024

وفاقی وزیر امور کشمیر اور گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام کا 100 دن کی مثالی کارکردگی پر وزیراعظم شہباز شریف کو خراج تحسین

June 16, 2024

پاک افغان جرنلسٹس فورم کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں 122 افغان صحافیوں کو ٹریننگ

June 16, 2024

لذیز ایتھوپیائی پکوان افریقہ ڈے کی تقریبات میں مرکز نگاہ بن گئے

ویڈیو

December 14, 2023

انیق احمد سےعراقی سفیر حامد عباس لفتہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

December 8, 2023

اسلام آباد، ورکرز ویلفیئر فنڈز کی جانب سے پریس بریفنگ کااہتمام

October 7, 2023

افتخار درانی کے وکیل کی تحریک انصاف کے رہنما کی بازیابی کے حوالے سے گفتگو

October 7, 2023

افغان وزیرخارجہ کا بلاول بھٹو نے استقبال کیا

October 7, 2023

پشاور میں سینکڑوں افراد بجلی بلوں میں اضافے پر سڑکوں پر نکل آئی

کالم

June 15, 2024

تحریر: سیدہ ہماء مرتضیٰ

February 3, 2024

کینسر کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں

January 25, 2024

کامیابی حاصل کرنے کےپسِ پردہ سنہرے اصول

January 7, 2024

زندگی آسان نہیں ہوتی بلکہ اسے آسان بنایا جاتا ہے

January 2, 2024

لمحہ فکریہ : خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان